عقاب
عقاب eagle عقاب کی بہت سی اقسام ہے ضروری نہیں سب میں مماثلت ہو یہ امریکہ ، یورپ ، ایشیا میں پایا جاتا ہے 60 سے زائد اقسام پائی جاتی ہے ۔ ”بہترین حالات کے تحت سنہری عقاب (عقیلہ کیرساٹوس) پونے دو میل کی بلندی سے خرگوش کی معمولی سی حرکت کو بھی دیکھ سکتا ہے،“ دی گینیز بُک آف اینیمل ریکارڈز بیان کرتی ہے۔ دیگر کا اندازہ ہے کہ عقاب اس سے بھی زیادہ دُور سے دیکھ سکتا ہے! سنہری عقاب کی دو بڑی بڑی آنکھیں ہوتی ہیں جو سر کا بیشتر حصہ گھیرے ہوتی ہیں۔ بُک آف برٹش برڈز بیان کرتی ہے کہ سنہری عقاب کی آنکھیں، ”درحقیقت کافی زیادہ بڑی ہوتی ہیں مگر وہ اُسکی پرواز کی راہ میں حائل نہیں ہوتیں۔“ مزیدبرآں، عقاب کی آنکھ میں روشنی حاصل کرنے والے خلیے ہماری نسبت پانچ گُنا زیادہ ہوتے ہیں، بعض میں تو ہمارے 200000 خلیوں کے مقابلے میں فی مربع ملیمیٹر 1000000 مخروطے ہوتے ہیں۔ عملاً ہر حساسہ نیورون سے جڑا ہوتا ہے۔ نتیجتاً عقاب کی عصببصری میں جو آنکھ سے دماغ کو پیغام پہنچاتی ہے، انسانوں کی نسبت دو گُنا زیادہ بافتے ہوتے ہیں۔ یہ مخلوق رنگ کی بھی خوب پہچان کر سکتی ہے! یوں کہہ لیجئے کہ دیگر پرندوں...